اس نے مرے مرنے کے لیے آج دعا کی

عزیز وارثی

اس نے مرے مرنے کے لیے آج دعا کی

عزیز وارثی

MORE BYعزیز وارثی

    اس نے مرے مرنے کے لیے آج دعا کی

    یا رب کہیں نیت نہ بدل جائے قضا کی

    آنکھوں میں ہے جادو تری زلفوں میں ہے خوشبو

    اب مجھ کو ضرورت نہ دوا کی نہ دعا کی

    اک مرشد بر حق سے ہے دیرینہ تعلق

    پرواہ نہیں مجھ کو سزا کی نہ جزا کی

    دونوں ہی برابر ہیں رہ عشق و وفا میں

    جب تم نے وفا کی ہے تو ہم نے بھی وفا کی

    غیروں کو یہ شکوہ ہے کہ پیتا ہے شب و روز

    مے خانے کا مختار تو اب تک نہیں شاکی

    یہ بھی ہے یقیں مجھ کو سزا وہ نہیں دیں گے

    یہ اور بھی ہے تسلیم کہ ہاں میں نے خطا کی

    اس دور کے انساں کو خدا بھول گیا ہے

    تم پر تو عزیزؔ آج بھی رحمت ہے خدا کی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اس نے مرے مرنے کے لیے آج دعا کی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY