اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

احمد فراز

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

    ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا

    آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی

    میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا

    شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی

    اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

    اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے

    میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا

    دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں

    میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا

    اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس

    کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا

    جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا

    اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد فراز

    احمد فراز

    احمد فراز

    احمد فراز

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا نعمان شوق

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY