اس پار بنتی مٹتی دھنک اس کے نام کی

محمد احمد رمز

اس پار بنتی مٹتی دھنک اس کے نام کی

محمد احمد رمز

MORE BYمحمد احمد رمز

    اس پار بنتی مٹتی دھنک اس کے نام کی

    اس پار میں ہوں اور سیاہی ہے شام کی

    کن کن بلندیوں سے الجھتا رہا ہے ذہن

    یہ آسماں جھلک بھی نہیں اس کے بام کی

    الفاظ کی گرفت سے ہے ماورا ہنوز

    اک بات کہہ گیا وہ مگر کتنے کام کی

    اعجاز دے رہا ہوں اب اپنے ہنر کو میں

    شمشیر کے لیے ہے ضرورت نیام کی

    اک روشنی سی مجھ پہ اترتی ہے گاہ گاہ

    بنیاد اس نے ڈالی پیام و سلام کی

    خوشبو کا کوئی رنگ نہ پیکر نہ پیرہن

    تصویر ہے مگر ترے طرز خرام کی

    بولو کہ تم بھی رکھتے ہو اک سرگزشت رمزؔ

    سنبھلو کہ اس نے اپنی کہانی تمام کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY