اس سے بچھڑ کے باب ہنر بند کر دیا

عرفان صدیقی

اس سے بچھڑ کے باب ہنر بند کر دیا

عرفان صدیقی

MORE BY عرفان صدیقی

    اس سے بچھڑ کے باب ہنر بند کر دیا

    ہم جس میں جی رہے تھے وہ گھر بند کر دیا

    شاید خبر نہیں ہے غزالان شہر کو

    اب ہم نے جنگلوں کا سفر بند کر دیا

    اپنے لہو کے شور سے تنگ آ چکا ہوں میں

    کس نے اسے بدن میں نظر بند کر دیا

    اب ڈھونڈ اور قدر شناسان رنگ و بو

    ہم نے یہ کام اے گل تر بند کر دیا

    اک اسم جاں پہ ڈال کے خاک فرامشی

    اندھے صدف میں ہم نے گہر بند کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY