اسے محبت ہے ہم سے لیکن کبھی زباں سے کہا نہیں ہے

پلوی مشرا

اسے محبت ہے ہم سے لیکن کبھی زباں سے کہا نہیں ہے

پلوی مشرا

MORE BYپلوی مشرا

    اسے محبت ہے ہم سے لیکن کبھی زباں سے کہا نہیں ہے

    نگاہ پڑھنے میں ہم ہیں ماہر اسے یہ شاید پتا نہیں ہے

    قدم تلے ہے زمین غائب کہیں پہ چھت کا پتا نہیں ہے

    یہ بھید کیوں ہے سمجھ سکے جو ابھی تلک تو ملا نہیں ہے

    گزر رہی زندگی یہ کیسی جو پوچھتے ہو تو کیا بتاؤں

    خدا سے مجھ کو گلہ نہیں ہے مگر جو چاہا ملا نہیں ہے

    وہ کہہ رہا ہے کہ جان اپنی ہماری خاطر لٹا سکے گا

    ہے کون جس نے وفا میں یہ سب کہا نہیں یا سنا نہیں ہے

    نہ زندگی سے مجھے گلہ ہے نہ زندگی سے تجھے گلہ ہے

    مگر الگ اس طرح سے جینا تمہیں کہو کیا سزا نہیں ہے

    کسی کو مانگے بنا ملے سب کسی کی جھولی رہے ہے خالی

    کہ اس کے پیچھے خدا کی منشا ہے کیا کسی کو پتا نہیں ہے

    کہ مشکلوں سے ڈرو نہیں اور کام ہمت سے لو ہمیشہ

    تبھی سپھلتا ملے گی اک دن یہ سچ کسی سے چھپا نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY