اسی زمین اسی آسماں کے ساتھ رہے

اشفاق حسین

اسی زمین اسی آسماں کے ساتھ رہے

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    اسی زمین اسی آسماں کے ساتھ رہے

    جہاں کے تھے ہی نہیں اس جہاں کے ساتھ رہے

    نئی زمیں پہ کھلاتے رہے شناخت کے پھول

    جہاں رہے وہاں اپنی زباں کے ساتھ رہے

    سجا کے نوک پلک تک وراثتوں کا جمال

    ثقافت وطن میزباں کے ساتھ رہے

    ہم اپنے لمحۂ موجود کے حوالوں سے

    غبار قافلۂ رفتگاں کے ساتھ رہے

    تراشتی رہی موج ہوائے وقت ہمیں

    چٹان تھے مگر آب رواں کے ساتھ رہے

    کسی شکستہ کنارے سے ربط ہی نہ رکھا

    سمندروں میں کھلے بادباں کے ساتھ رہے

    بدن پہ جمنے نہ دی ہم نے گرد تنہائی

    خیال انجمن دوستاں کے ساتھ رہے

    بس اس خیال سے کچھ اس میں تیرا ذکر بھی تھا

    سنی سنائی ہوئی داستاں کے ساتھ رہے

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 500)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY