اٹھ گئی اس کی نظر میں جو مقابل سے اٹھا

شاد عارفی

اٹھ گئی اس کی نظر میں جو مقابل سے اٹھا

شاد عارفی

MORE BYشاد عارفی

    اٹھ گئی اس کی نظر میں جو مقابل سے اٹھا

    ورنہ اٹھنے کے لیے غیر بھی محفل سے اٹھا

    بیٹھ کر لطف نہ تو سایۂ باطل سے اٹھا

    چل کے آرام اٹھانا ہے تو منزل سے اٹھا

    آ کے محفل میں تری کون مرے دل سے اٹھا

    کوئی اٹھا بھی مری طرح تو مشکل سے اٹھا

    ساتھ آتا ہے تو لہروں کے تھپیڑے مت گن

    موج سے لطف اٹھانا ہے تو ساحل سے اٹھا

    ہاتھ میں جان اٹھانا تو بڑی بات نہیں

    کوئی پتھر کوئی کانٹا رہ منزل سے اٹھا

    قرب ساحل کے تکبر میں جو کشتی ڈوبی

    کوئی چھوٹا سا ببولہ بھی نہ ساحل سے اٹھا

    بے دلی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

    جس طرف تجھ کو اٹھانا ہے قدم دل سے اٹھا

    وہ جو نووارد الفت ہیں انہیں کیا معلوم

    کس لیے آج میں سنگ در قاتل سے اٹھا

    شیخ پر ہاتھ اٹھانے کے نہیں ہم قائل

    ہاتھ اٹھانے کی جو ٹھانی ہے تو باطل سے اٹھا

    آج اس کفر سراپا نے سنوارے گیسو

    آج بکھرا ہوا پردہ رخ باطل سے اٹھا

    شادؔ اک رہبر مکار سے رہزن اچھا

    کوئی نقصان اٹھانا ہے تو جاہل سے اٹھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY