اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا

قاضی احتشام بچھرونی

اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا

قاضی احتشام بچھرونی

MORE BYقاضی احتشام بچھرونی

    اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا

    خدا کا شکر ہے طوفان گھر کا گھر میں رہا

    نہ جانے کون سی اس میں کشش تھی پوشیدہ

    تمام عمر وہ چہرا مری نظر میں رہا

    ستم شعار سے ہم جیتے جی یہ کیوں کہہ دیں

    کہ حوصلہ نہ ہمارے دل و جگر میں رہا

    نہ روک پاؤں گا ہرگز میں تیری رسوائی

    تو اشک بن کے اگر میری چشم تر میں رہا

    وہ میری طرح بھی خانہ خراب کیوں رہتا

    بنا کے دل کو مرے گھر وہ اپنے گھر میں رہا

    فنا کے بعد بھی کی ہے تری قدم بوسی

    میں خاک ہو کے بھی تیری ہی رہ گزر میں رہا

    گیا جو تاج ملی با کمال درویشی

    زمانہ یوں بھی مرے حلقۂ اثر میں رہا

    ضرور ہو نہ ہو تو تھا مجھ ہی میں پوشیدہ

    یہ ذوق سجدہ ہمیشہ جو سر کے سر میں رہا

    گیا جو منزل مقصود تک جو تو دیوانہ

    یہ اہل ہوش ہمیشہ اگر مگر میں رہا

    ہے احتشامؔ زمانے میں بڑھ کے ایک سے ایک

    وہ کون ہے کہ جو یکتا کسی ہنر میں رہا

    مأخذ :
    • کتاب : Kaif-e-Gazal (Pg. 109)
    • Author : Qazi Ehtisham Bachrauni
    • مطبع : Ehtisham Tailaring House, Amroha (U.P.) (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY