اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہ

شکیل بدایونی

اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہ

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہ

    کچھ آیا زندگی میں انقلاب آہستہ آہستہ

    سما کر مجھ میں وہ جان شباب آہستہ آہستہ

    بنا دے گا مجھے اپنا جواب آہستہ آہستہ

    یہ محفل زاہدان خشک کی محفل ہے اے رندو

    ذرا اس بزم میں ذکر شراب آہستہ آہستہ

    مری نظریں مجھی کو رفتہ رفتہ بھول جاتی ہیں

    ہوئے جاتے ہیں جلوے کامیاب آہستہ آہستہ

    نہ کہئے ہاں نہ کہئے آپ کو مجھ سے محبت ہے

    نگاہیں خود ہی دے دیں گی جواب آہستہ آہستہ

    شکیلؔ اس درجہ مایوسی شروع عشق میں کیسی

    ابھی تو اور ہونا ہے خراب آہستہ آہستہ

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY