وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا

انجم اعظمی

وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا

انجم اعظمی

MORE BYانجم اعظمی

    وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا

    تو اپنے ہی جلووں میں گھرا آئے گا

    تا حشر یوں ہی منتظر دید رہوں

    چپکے سے کبھی آ کے بتا، آئے گا

    میں نامۂ اعمال کھلا رکھوں گا

    رحمت کو تری جوش سوا آئے گا

    حسرت گہ عالم میں تمنا کا قدم

    الا کی طرف صورت لا آئے گا

    خالی بھی تو کر خانۂ دل دنیا سے

    اس گھر میں مری جان خدا آئے گا

    دریا میں بہت لہر ہیں خوابیدہ ابھی

    جاگیں گی تو طوفان بڑا آئے گا

    محفل میں سبھی دوست نہیں آتے ہیں

    دشمن بھی کوئی دوست نما آئے گا

    اب تاب نہ لاؤں گا یہ اندیشہ ہے

    منظر جو کوئی ہوش ربا آئے گا

    نکلو بھی کبھی سود و زیاں سے ورنہ

    کوچے میں ترے کون بھلا آئے گا

    مآخذ :
    • کتاب : siip-volume-47 (Pg. 228)

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY