وعدہ تھا کب کا بار خدا سوچنے تو دے

صابر

وعدہ تھا کب کا بار خدا سوچنے تو دے

صابر

MORE BYصابر

    وعدہ تھا کب کا بار خدا سوچنے تو دے

    معقول کوئی عذر نیا سوچنے تو دے

    پرچی وہ جس پہ لکھا ہوا ہے پتہ ترا

    رکھ کر کہاں میں بھول گیا سوچنے تو دے

    وہ ہجر بھی تو گونگی پہیلی سے کم نہ تھا

    اب وصل آ پڑا ہے ذرا سوچنے تو دے

    اے چال باز ایسے نہ اترا کے مسکرا

    چلنے دے چال مجھ کو ذرا سوچنے تو دے

    ہوں اختیار سے بھی پرے کچھ تصرفات

    اندیشۂ‌ حساب ہٹا سوچنے تو دے

    جو ہو گیا میں اس پہ ہوں راضی خدا قسم

    یہ کیوں ہوا یہ کیسے ہوا سوچنے تو دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY