واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا

سید عابد علی عابد

واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا

سید عابد علی عابد

MORE BYسید عابد علی عابد

    واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    یہی بندے کی خطا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    غم دوراں کا مداوا نہ ہوا پر نہ ہوا

    ہاتھ میں کس کے شفا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    نغمۂ نے بھی نہ ہو بانگ بط مے بھی نہ ہو

    یہ بھی جینے کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    میں سمجھتا تھا جسے ہیکل و محراب و کنشت

    میرا نقش کف پا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    اپنے ہی ساز کی آواز پر حیراں تھا میں

    زخمۂ ساز نیا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    جس کی ایما پہ کیا شیخ نے بندوں کو ہلاک

    وہی بندوں کا خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    خطبہ ترغیب ہلاکت کا روا ہے اے دوست

    شعر کہنے کی سزا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    شب ہجراں کی درازی سے پریشان نہ تھا

    یہ تری زلف رسا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    وہ مجھے مشورۂ ترک وفا دیتے تھے

    یہ محبت کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    چہرہ کھولے نظر آتی تھی عروس گل نار

    منہ پہ شبنم کی ردا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    کفر و ایماں کی حدیں کس نے تعین کی تھیں

    اس پہ ہنگامہ بپا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    یہی مار دو زباں میرا لہو چاٹ گیا

    رہنما ایک بلا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    عجب انداز سے تھا کوئی غزل خواں کل رات

    عابدؔ شعلہ نوا ہے مجھے معلوم نہ تھا

    مآخذ :
    • کتاب : Ghazalistaan (Pg. 126)
    • Author : Farkhanda Hashmi, Najeeb Rampuri
    • مطبع : Farid Book Depot ltd, New Delhi (2003)
    • اشاعت : 2003

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY