وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو

مرزا غالب

وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو

    کیجے ہمارے ساتھ عداوت ہی کیوں نہ ہو

    چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا

    ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کیوں نہ ہو

    ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ

    ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو

    پیدا ہوئی ہے کہتے ہیں ہر درد کی دوا

    یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو

    ڈالا نہ بے کسی نے کسی سے معاملہ

    اپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو

    ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

    ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

    ہنگامۂ زبونی ہمت ہے انفعال

    حاصل نہ کیجے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو

    وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیں

    اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو

    مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئی

    عمر عزیز صرف عبادت ہی کیوں نہ ہو

    اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ

    اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ذوالفقار علی بخاری

    ذوالفقار علی بخاری

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو نعمان شوق

    مآخذ
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib Jadeed (Al-Maroof Ba Nuskha-e-Hameedia) (Pg. 293)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY