وفا کم ہے نظر آتی بہت ہے

احمد علوی

وفا کم ہے نظر آتی بہت ہے

احمد علوی

MORE BYاحمد علوی

    وفا کم ہے نظر آتی بہت ہے

    بڑے شہروں میں دانائی بہت ہے

    ہمارے پاؤں میں پتھر بندھے ہیں

    تری آنکھوں میں گہرائی بہت ہے

    بنانے کو ہمالہ نفرتوں کے

    غلط فہمی کی اک رائی بہت ہے

    نظر میں کس کی ہے پاکیزگی اب

    کہ اس تالاب میں کائی بہت ہے

    ہمارا ساتھ رہنا بھی ہے مشکل

    بچھڑنے میں بھی رسوائی بہت ہے

    سبھی کی زندگی ہے اپنی اپنی

    بھرے گھر میں بھی تنہائی بہت ہے

    ادب میں زندگی پانے کو علویؔ

    فقط لہجے میں سچائی بہت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY