وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

مضطر خیرآبادی

وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

    کہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

    مسیحائی کا دعویٰ اور بیماروں سے یہ غفلت

    دوا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

    رقیبوں پر عدو پر غیر پر چرخ ستم گر پر

    جفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

    کبھی داد‌ محبت دے کے حق میری وفاؤں کا

    ادا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

    زکات حسن دے کر اپنے کوچے کے گداؤں کا

    بھلا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

    دل مضطرؔ کو قید دام گیسوئے پریشاں سے

    رہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 182)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY