وفا سے پشیماں جفا ہو رہی ہے

جرم محمد آبادی

وفا سے پشیماں جفا ہو رہی ہے

جرم محمد آبادی

MORE BYجرم محمد آبادی

    وفا سے پشیماں جفا ہو رہی ہے

    محبت کی قیمت ادا ہو رہی ہے

    دوا ہو رہی ہے دعا ہو رہی ہے

    مگر دل کی الجھن سوا ہو رہی ہے

    ڈبوئی ہے جس نے ابھی دل کی کشتی

    وہی آس پھر ناخدا ہو رہی ہے

    گلوں میں بھی ہے رنگ بیگانگی کا

    عجب اس چمن کی ہوا ہو رہی ہے

    نگاہوں سے پردے ہٹے جا رہے ہیں

    خودی کی خدائی فنا ہو رہی ہے

    طلب پر بھی حسن طلب کی ہے کوشش

    نظر کچھ مزاج آشنا ہو رہی ہے

    مرے درد کی ابتدا کرنے والے

    ترے ظلم کی انتہا ہو رہی ہے

    تری راہ میں مٹنے والوں کی قسمت

    فنا کو بھی حاصل بقا ہو رہی ہے

    ستم کو ستم جرمؔ ہرگز نہ کہتے

    اگر یہ سمجھتے خطا ہو رہی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY