وہی ہیں کوئی صورت ان میں بیگانی نہیں ملتی

شوق اثر رامپوری

وہی ہیں کوئی صورت ان میں بیگانی نہیں ملتی

شوق اثر رامپوری

MORE BYشوق اثر رامپوری

    وہی ہیں کوئی صورت ان میں بیگانی نہیں ملتی

    وہ چہرے آہ جن چہروں پہ تابانی نہیں ملتی

    عجب دنیا ہے اس میں خوئے انسانی نہیں ملتی

    کہ سیدھے منہ کسی سے بھی یہ دیوانی نہیں ملتی

    لٹایا جس نے ہستی کو زمانے کے تبسم پر

    اسی دل کے لئے اشکوں کی قربانی نہیں ملتی

    کبھی طغیانیٔ پیہم ہو تو آنسو نہیں بہتے

    کبھی بہتے ہوئے اشکوں میں طغیانی نہیں ملتی

    تجلی خانۂ حسن دو عالم شوقؔ کا دل ہے

    یہی وہ آئنہ ہے جس میں حیرانی نہیں ملتی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY