وحشت کے سو رنگ دکھانے والا میں

ماہر عبدالحی

وحشت کے سو رنگ دکھانے والا میں

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    وحشت کے سو رنگ دکھانے والا میں

    خود اپنی زنجیر بنانے والا میں

    روز کنواں کھودوں تو پیاس بجھاؤں روز

    دریاؤں سے پیاس بجھانے والا میں

    ماضی کے بے برگ شجر پر بیٹھا ہوں

    مستقبل کے گیت سنانے والا میں

    کیسے ممکن ہے اپنوں پر وار کروں

    دشمن کی چوٹیں سہلانے والا میں

    اندر اندر درد کی لہریں اوپر سے

    ہر دم ہنسنے اور ہنسانے والا میں

    باغوں کو ویران بنانے والے لوگ

    صحراؤں میں پھول کھانے والا میں

    صدیوں سے مسموم ہوا کی زد پر ہوں

    امیدوں کی فضل اگانے والا میں

    دیکھو کب تک پاؤں جمائے رہتا ہوں

    اونچی لہروں سے ٹکرانے والا میں

    مآخذ :
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 91)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY