وحشت اسی سے پھر بھی وہی یار دیکھنا

عبید اللہ علیم

وحشت اسی سے پھر بھی وہی یار دیکھنا

عبید اللہ علیم

MORE BY عبید اللہ علیم

    وحشت اسی سے پھر بھی وہی یار دیکھنا

    پاگل کو جیسے چاند کا دیدار دیکھنا

    اس ہجرتی کو کام ہوا ہے کہ رات دن

    بس وہ چراغ اور وہ دیوار دیکھنا

    پاؤں میں گھومتی ہے زمیں آسماں تلک

    اس طفل شیر خوار کی رفتار دیکھنا

    یارب کوئی ستارۂ امید پھر طلوع

    کیا ہو گئے زمین کے آثار دیکھنا

    لگتا ہے جیسے کوئی ولی ہے ظہور میں

    اب شام کو کہیں کوئی مے خوار دیکھنا

    اس وحشتی کا حال عجب ہے کہ اس طرف

    جانا بھی اور جانب پندار دیکھنا

    دیکھا تھا خواب شاعر مومن نے اس لیے

    تعبیر میں ملا ہمیں تلوار دیکھنا

    جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبر

    ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا

    میں نے سنا ہے قرب قیامت کا ہے نشاں

    بے قامتی پہ جبہ و دستار دیکھنا

    صدیاں گزر رہی ہیں مگر روشنی وہی

    یہ سر ہے یا چراغ سر دار دیکھنا

    اس قافلے نے دیکھ لیا کربلا کا دن

    اب رہ گیا ہے شام کا بازار دیکھنا

    دو چار کے سوا یہاں لکھتا غزل ہے کون

    یہ کون ہیں یہ کس کے طرفدار دیکھنا

    مآخذ:

    • کتاب : Veeran sarai ka diya (Pg. 113)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY