وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

احمد فراز

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

احمد فراز

MORE BY احمد فراز

    وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

    اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ

    ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ

    میرؔ دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ

    اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں

    طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ

    اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ

    چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

    ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں

    اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

    شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجئے گا

    ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ

    ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں

    لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

    جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فرازؔ

    سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

    RECITATIONS

    احمد فراز

    احمد فراز

    احمد فراز

    وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ احمد فراز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY