وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک

صالح ندیم

وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک

صالح ندیم

MORE BYصالح ندیم

    وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک

    دھواں ہی اٹھتا رہا شمع کے پگھلنے تک

    کسے نصیب ہوئی اس کے جسم کی خوشبو

    وہ میرے ساتھ رہا راستہ بدلنے تک

    اگر چراغ کی لو پر زبان رکھ دیتا

    زبان جلتی بھی کب تک چراغ جلنے تک

    جہاں بھی ٹھہرو گے رک جائے گا تمہارا وجود

    تمہارے ساتھ چلے گا تمہارے چلنے تک

    ابھی سے راہ میں نظریں بچھا کے مت بیٹھو

    پلٹ کے آئے گا وہ آفتاب ڈھلنے تک

    ہوا کا کیا ہے نہ جانے یہ کب بدل جائے

    بدل چکے گا زمانہ ترے بدلنے تک

    سکون کس کو ملا زندگی کی راہوں میں

    غبار اٹھتا رہا قافلہ نکلنے تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY