وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا

محمد اظہار الحق

وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا

محمد اظہار الحق

MORE BYمحمد اظہار الحق

    وجود پر انحصار میں نے نہیں کیا تھا

    کہ خاک کا اعتبار میں نے نہیں کیا تھا

    سفید ریشم کی اوڑھنی میرے ہاتھ میں تھی

    مگر اسے داغدار میں نے نہیں کیا تھا

    یہ بے نیازی کی خو مرے حسن میں بہت تھی

    مگر اسے بے قرار میں نے نہیں کیا تھا

    ملا تھا خورجین میں لیے میرا کاسۂ سر

    مگر اسے شرمسار میں نے نہیں کیا تھا

    کہیں سے یک لخت زندگی میری کاٹ دے گا

    جو راستہ اختیار میں نے نہیں کیا تھا

    سموں تلے روند دے خوشی سے مگر یہ سن لے

    گناہ اے شہسوار! میں نے نہیں کیا تھا

    دکھائی دینے لگا وہ اک تیسرا کنارا

    ابھی جوانی کو پار میں نے نہیں کیا تھا

    غروب کا وقت تھا مقرر سو چل پڑا میں

    کسی کا پھر انتظار میں نے نہیں کیا تھا

    مآخذ:

    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 330)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY