جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

احمد فراز

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

    اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

    یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے

    یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو

    اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں

    میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو

    دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری

    دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو

    یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں

    ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو

    ہر بزم میں موضوع سخن دل زدگاں کا

    اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو

    اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں

    اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو

    وہ وقت نہ آئے کہ دل زار بھی سوچے

    اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو

    آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل

    یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو

    اے جان فرازؔ اتنی بھی توفیق کسے تھی

    ہم کو غم ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Vatsala Mehra

    Vatsala Mehra

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    نعمان شوق

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY