وقت کے بوسیدہ کاغذ پہ رقم ہونے کو ہے

ابھنندن پانڈے

وقت کے بوسیدہ کاغذ پہ رقم ہونے کو ہے

ابھنندن پانڈے

MORE BY ابھنندن پانڈے

    وقت کے بوسیدہ کاغذ پہ رقم ہونے کو ہے

    لمحۂ موجود اگلے پل جو کم ہونے کو ہے

    میری وحشت سے کبھی سیراب تھا دشت جنوں

    اب مری دیوانگی کا سر قلم ہونے کو ہے

    اس کے جانب دار ہیں سارے مرا کوئی نہیں

    المدد اے دل سر پندار خم ہونے کو ہے

    ذہن کہتا ہے زیادہ وقت لے گا کار عشق

    دل تو کہتا ہے اجی بس ایک دم ہونے کو ہے

    اک نیا طرز ستم ایجاد کرنا ہے اسے

    اک نئی ترکیب سے مجھ پہ ستم ہونے کو ہے

    اے خدائے مے کدہ میری مدد کو جلد آ

    تیرا بندہ عاشق دیر و حرم ہونے کو ہے

    زندگی کچھ روز سے کیوں مہرباں ہے بے سبب

    کیا کسی آشوب کا ہم پہ کرم ہونے کو ہے

    کھینچ لائی جانب دریا ہمیں بھی تشنگی

    اب گلوئے خشک کا خنجر پہ رم ہونے کو ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY