وقت کے آسیب سے ڈر جائیں کیا

عبدالحفیظ خلش تسکینی

وقت کے آسیب سے ڈر جائیں کیا

عبدالحفیظ خلش تسکینی

MORE BYعبدالحفیظ خلش تسکینی

    وقت کے آسیب سے ڈر جائیں کیا

    موت سے بھی پہلے ہم مر جائیں کیا

    بیچ میں در آئے ہے میری وفا

    تہمتیں اس شوخ کے سر جائیں کیا

    فرق عادت میں ابھی آیا نہیں

    ہم حرم مے خانہ ہو کر جائیں کیا

    ہو گئی ہے کیوں تمہاری آنکھ نم

    ہم یہاں کچھ دیر رک کر جائیں کیا

    زندگی کیا دل کشی کم تو نہیں

    آپ کی خاطر سہی مر جائیں کیا

    آج کل ماحول اچھا ہو گیا

    دل میں جو ٹھانی ہے ہم کر جائیں کیا

    جن میں ان کا قرب حاصل تھا خلشؔ

    میری آنکھوں سے وہ منظر جائیں کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY