وقت کے کان کون بھر رہا ہے

حنا عنبرین

وقت کے کان کون بھر رہا ہے

حنا عنبرین

MORE BY حنا عنبرین

    وقت کے کان کون بھر رہا ہے

    وقت ویسے بھی تو گزر رہا ہے

    سال دو چار پیچھے ہو گئے ہیں

    آئنہ دیکھ کر سنور رہا ہے

    کون رہتا ہے پار دریا کے

    یہ جو پانی ہے کیوں بپھر رہا ہے

    یہ اداسی بھی بے سبب تو نہیں

    دل کسی جستجو میں مر رہا ہے

    تھام کر ہاتھ میرا ہاتھوں میں

    بات بے بات کیوں مکر رہا ہے

    دور ہی رہیے دور تر رہیے

    آپ سے کون بات کر رہا ہے

    میرا سایہ بھی میرے ساتھ نہیں

    کیا کوئی میرا ہم سفر رہا ہے

    کتنے بونے ہوئے ہیں وہ ثابت

    خبط جن کا ہمارے سر رہا ہے

    ایک وحشت کا باب ختم ہوا

    ایک نشہ تھا جو اتر رہا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Word File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY