وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

حیدر قریشی

وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

حیدر قریشی

MORE BYحیدر قریشی

    وصل کی شب تھی اور اجالے کر رکھے تھے

    جسم و جاں سب اس کے حوالے کر رکھے تھے

    جیسے یہ پہلا اور آخری میل ہوا ہو

    حال تو دونوں نے بے حالے کر رکھے تھے

    کھوج رہے تھے روح کو جسموں کے رستے سے

    طور طریقے پاگلوں والے کر رکھے تھے

    ہم سے نادانوں نے عشق کی برکت ہی سے

    کیسے کیسے کام نرالے کر رکھے تھے

    وہ بھی تھا کچھ ہلکے ہلکے سے میک اپ میں

    بال اپنے ہم نے بھی کالے کر رکھے تھے

    اپنے آپ ہی آیا تھا پھر مرہم بن کر

    جس نے ہمارے دل میں چھالے کر رکھے تھے

    حیدرؔ اپنی تاثیریں لے آئے آخر

    ہجر میں ہم نے جتنے نالے کر رکھے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY