وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں

اشوک مزاج بدر

وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں

اشوک مزاج بدر

MORE BYاشوک مزاج بدر

    وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں

    ہم تو شاعر ہیں محبت کی غزل لکھتے ہیں

    پڑھیے ان کو کسی کاغذ پہ نہیں سرحد پر

    اپنے خوں سے جو شہادت کی غزل لکھتے ہیں

    رہنما اپنے وطن کے بھی ہیں کتنے شاطر

    وہ شہادت پہ سیاست کی غزل لکھتے ہیں

    تم نے مزدور کے چھالے نہیں دیکھے شاید

    اپنے ہاتھوں پہ وہ محنت کی غزل لکھتے ہیں

    ملک ایسے بھی ہیں کچھ خاص پڑوسی اپنے

    سرحدوں پہ جو عداوت کی غزل لکھتے ہیں

    ہم سبھی چین سے سوتے ہیں مگر راتوں میں

    فوج والے تو حفاظت کی غزل لکھتے ہیں

    شوق لکھنے کا بہت ہم کو بھی ہے لیکن ہم

    سونے کے پین سے غربت کی غزل لکھتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Main Ashok Hoon Main Mizaj Bhee (Pg. 34)
    • Author : Ashok Mizaj Badr
    • مطبع : Shere Acadami, Bhopal (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے