وطن کی سر زمیں سے عشق و الفت ہم بھی رکھتے ہیں

جوشؔ ملسیانی

وطن کی سر زمیں سے عشق و الفت ہم بھی رکھتے ہیں

جوشؔ ملسیانی

MORE BY جوشؔ ملسیانی

    وطن کی سر زمیں سے عشق و الفت ہم بھی رکھتے ہیں

    کھٹکتی جو رہے دل میں وہ حسرت ہم بھی رکھتے ہیں

    ضرورت ہو تو مر مٹنے کی ہمت ہم بھی رکھتے ہیں

    یہ جرأت یہ شجاعت یہ بسالت ہم بھی رکھتے ہیں

    زمانے کو ہلا دینے کے دعوے باندھنے والو

    زمانے کو ہلا دینے کی طاقت ہم بھی رکھتے ہیں

    بلا سے ہو اگر سارا جہاں ان کی حمایت پر

    خدائے ہر دو عالم کی حمایت ہم بھی رکھتے ہیں

    بہار گلشن امید بھی سیراب ہو جائے

    کرم کی آرزو اے ابر رحمت ہم بھی رکھتے ہیں

    گلہ نا مہربانی کا تو سب سے سن لیا تم نے

    تمہاری مہربانی کی شکایت ہم بھی رکھتے ہیں

    بھلائی یہ کہ آزادی سے الفت تم بھی رکھتے ہو

    برائی یہ کہ آزادی سے الفت ہم بھی رکھتے ہیں

    ہمارا نام بھی شاید گنہ گاروں میں شامل ہو

    جناب جوشؔ سے صاحب سلامت ہم بھی رکھتے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وطن کی سر زمیں سے عشق و الفت ہم بھی رکھتے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY