وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے

عباس تابش

وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے

    مگر وہ کوئی مناسب بہانا چاہتا ہے

    یہ زندگی ہے یہ تو ہے یہ روزگار کے دکھ

    ابھی بتا دے کہاں آزمانا چاہتا ہے

    کہ جیسے اس سے ملاقات پھر نہیں ہوگی

    وہ ساری باتیں اکٹھی بتانا چاہتا ہے

    میں سن رہا ہوں اندھیرے میں آہٹیں کیسی

    یہ کون آیا ہے اور کون جانا چاہتا ہے

    اسے خبر ہے کہ مجنوں کو راس ہے جنگل

    وہ میرے گھر میں بھی پودے لگانا چاہتا ہے

    وہ خود غرض ہے محبت کے باب میں تابشؔ

    کہ ایک پل کے عوض اک زمانہ چاہتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaab (Pg. 255)
    • Author : Abbas Tabish
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے