وہ آتے جاتے ادھر دیکھتا ذرا سا ہے

انعام کبیر

وہ آتے جاتے ادھر دیکھتا ذرا سا ہے

انعام کبیر

MORE BYانعام کبیر

    وہ آتے جاتے ادھر دیکھتا ذرا سا ہے

    نہیں ہے ربط مگر رابطہ ذرا سا ہے

    یہ کوفیوں کی کہانی ہے میرے دوست مگر

    یہاں پہ آپ کا بھی تذکرہ ذرا سا ہے

    اب اس کو کاٹنے میں جانے کتنی عمر لگے

    ہمارے درمیاں جو فاصلہ ذرا سا ہے

    نگاہ ایک سڑک ہے اور اس کی منزل دل

    ادھر سے جاوے تو یہ راستہ ذرا سا ہے

    تجھے لگا کہ تو کر لے گا صبر میرے بغیر

    تو کر کے دیکھ ہی لے تجربہ ذرا سا ہے

    ادھر کبیرؔ بگولے ہوا کے تند و تیز

    اور اس طرف یہ اکیلا دیا ذرا سا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے