وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی

مصطفی زیدی

وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی

مصطفی زیدی

MORE BY مصطفی زیدی

    وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی

    ہمارے وعدۂ الفت کو بھول جاؤ بھی

    بھلا کہاں کے ہم ایسے گمان والے ہیں

    ہزار بار ہم آئیں ہمیں بلاؤ بھی

    بگڑ چلا ہے بہت رسم خودکشی کا چلن

    ڈرانے والو کسی روز کر دکھاؤ بھی

    نہیں کہ عرض تمنا پہ مان ہی جاؤ

    ہمیں اس عہد تمنا میں آزماؤ بھی

    فغاں کہ قصۂ دل سن کے لوگ کہتے ہیں

    یہ کون سی نئی افتاد ہے ہٹاؤ بھی

    تمہاری نیند میں ڈوبی ہوئی نظر کی قسم

    ہمیں یہ ضد ہے کہ جاگو بھی اور جگاؤ بھی

    مآخذ:

    • کتاب : girebaa.n (Pg. 11)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY