وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم

باقی صدیقی

وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم

باقی صدیقی

MORE BYباقی صدیقی

    وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم

    اپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم

    کاٹتے ہیں رات جانے کس طرح

    صبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم

    بند کمرے میں سکوں ملنے لگا

    جب ہوا چلتی ہے گھبراتے ہیں ہم

    ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں

    اور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم

    زندگی کی کشمکش باقیؔ نہ پوچھ

    نیند جب آتی ہے سو جاتے ہیں ہم

    مأخذ :
    • کتاب : baar-e-safar (Pg. 75)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY