وہ اپنے جزو میں کھویا گیا ہے اس حد تک

آفتاب اقبال شمیم

وہ اپنے جزو میں کھویا گیا ہے اس حد تک

آفتاب اقبال شمیم

MORE BYآفتاب اقبال شمیم

    وہ اپنے جزو میں کھویا گیا ہے اس حد تک

    کہ اس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک

    کھڑی ہیں روشنیاں دست بستہ صدیوں سے

    حرا کے غار سے لے کر گیا کے برگد تک

    اٹھے تو اس کے فسوں سے لہک لہک جائے

    نظر پہنچ نہ سکے اس کی قامت و قد تک

    پتہ چلا کہ حرارت نہیں رہی دل میں

    گزر کے آگ سے آئے تھے اپنے مقصد تک

    وہی اساس بنا عمر کے حسابوں کی

    پہاڑا یاد کیا تھا جو ایک سے صد تک

    وہی جو دوش پر اپنے اٹھا سکا خود کو

    نیشب فرش سے پہنچا فراز مسند تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY