وہ اور ہوں گے نفوس بے دل جو کہکشائیں شمارتے ہیں

صابر

وہ اور ہوں گے نفوس بے دل جو کہکشائیں شمارتے ہیں

صابر

MORE BYصابر

    وہ اور ہوں گے نفوس بے دل جو کہکشائیں شمارتے ہیں

    یہ رات ہے پورے چاند کی ہم تری محبت حصارتے ہیں

    بڑی مہارت سے اس کی سانسوں میں نغمگی کر رہے ہیں پیدا

    وہ جتنا انجان بن رہا ہے ہم اتنا اس کو نہارتے ہیں

    تمہاری نظروں کا ہے مقدر یہ جھیل کا پر سکون پانی

    ہم اپنی آنکھوں کے کینوس پر ہزار موجیں ابھارتے ہیں

    سبھی مسافر چلیں اگر ایک رخ تو کیا ہے مزا سفر کا

    تم اپنے امکاں تلاش کر لو مجھے پرندے پکارتے ہیں

    تمہیں سے صابرؔ ہوئی ہے کوتاہی تیرگی کی محافظت میں

    سنا نہیں تھا کبھی یہ پہلے کہ جگنو شب خون مارتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY