وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا

قمر جمیل

وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا

قمر جمیل

MORE BYقمر جمیل

    وہ باتیں عشق کہتا تھا کہ سارا گھر مہکتا تھا

    مرا محبوب جیسے گل تھا اور بلبل چہکتا تھا

    سفر میں شام ہو جاتی تو دل میں شمعیں جل اٹھتیں

    لہو میں پھول کھل جاتے جہاں غنچہ چٹکتا تھا

    کبھی میں سرو کی صورت نظر آتا تھا یاروں کو

    کبھی غنچے کی صورت اپنے ہی دل میں دھڑکتا تھا

    خدا جانے میں اس کے ساتھ رہتا تھا کہ آئینہ

    مرے پردے میں اپنے آپ کو حیرت سے تکتا تھا

    خدا جانے وہ کیسا آدمی تھا جس کے ماتھے پر

    کوئی بندیا لگاتا تھا تو اک جگنو چمکتا تھا

    کبھی رہتا تھا اس کے ساتھ میں اس کے گریباں میں

    کبھی فرقت میں اپنے آئنے پر سر پٹکتا تھا

    اندھیری رات جب ساون میں آتی تھی تو اک بلبل

    خدا جانے کہاں سے آ کے میرے گھر چہکتا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 17.10.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY