وہ بے وفا ہے اسے بے وفا کہوں کیسے

نواز دیوبندی

وہ بے وفا ہے اسے بے وفا کہوں کیسے

نواز دیوبندی

MORE BYنواز دیوبندی

    وہ بے وفا ہے اسے بے وفا کہوں کیسے

    برا ضرور ہے لیکن برا کہوں کیسے

    جو کشتیوں کو ڈبوتا ہے لا کے ساحل پر

    تمہی بتاؤ اسے ناخدا کہوں کیسے

    یہ اور بات برے کو برا نہیں کہتا

    برا برا ہے برے کو بھلا کہوں کیسے

    وہ میری سانسوں میں دل میں نظر میں غزلوں میں

    میں اپنے آپ سے اس کو جدا کہوں کیسے

    جو تجھ سے کہنا ہے دنیا سے وہ چھپانا ہے

    اگر غزل نہ کہوں تو بتا کہوں کیسے

    ہوا کی شہہ پہ جلاتا ہے گھر غریبوں کے

    نوازؔ ایسے دیے کو دیا کہوں کیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY