وہ چپ تھا دیدۂ نم بولتے تھے

بھارت بھوشن پنت

وہ چپ تھا دیدۂ نم بولتے تھے

بھارت بھوشن پنت

MORE BYبھارت بھوشن پنت

    وہ چپ تھا دیدۂ نم بولتے تھے

    کہ اس کے چہرے سے غم بولتے تھے

    سبب خاموشیوں کا میں نہیں تھا

    مرے گھر میں سبھی کم بولتے تھے

    یہی جو شہر کا ہے آج مرکز

    یہاں سناٹے پیہم بولتے تھے

    ترستے ہیں اسی تنہائی کو ہم

    کوئی سنتا تھا اور ہم بولتے تھے

    کوئی بھی گھر میں جب ہوتا نہیں تھا

    در و دیوار باہم بولتے تھے

    انہیں سے بولنا سیکھا تھا ہم نے

    وہی جو بزم میں کم بولتے تھے

    مآخذ
    • کتاب : Bechehragi (Pg. 46)
    • Author : bharat bhushan pant
    • مطبع : Suman prakashan Alambagh,Lucknow (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY