وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے

محسن نقوی

وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے

    وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے

    سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری

    میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے

    اک جنازہ اٹھا مقتل میں عجب شان کے ساتھ

    جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے

    ہم کو ہر دور کی گردش نے سلامی دی ہے

    ہم وہ پتھر ہیں جو ہر دور میں بھاری نکلے

    عکس کوئی ہو خد و خال تمہارے دیکھوں

    بزم کوئی ہو مگر بات تمہاری نکلے

    اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھا محسنؔ

    میرے قاتل تو مرے اپنے حواری نکلے

    مآخذ
    • کتاب : Urdu Adab (Pg. 58)
    • Author : Iqbal Hussain
    • مطبع : Iqbal Hussain Publishers (Jan, Feb. Mar 1996)
    • اشاعت : Jan, Feb. Mar 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY