وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں

فراست رضوی

وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں

فراست رضوی

MORE BYفراست رضوی

    وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں

    کبھی کماں سے کوئی تیر جا کے آیا نہیں

    ٹھہر گیا ہے سر مرکز فلک سورج

    یہ وقت وہ ہے کہ دیوار میں بھی سایا نہیں

    یہ بے دلیٔ مسلسل یہ رنج نا معلوم

    تجھے بھلا کے بھی ہم نے تجھے بھلایا نہیں

    اسیر بزم اس آوارگی کو کم نہ سمجھ

    جو اپنے ساتھ گزارا وہ دن گنوایا نہیں

    بچھڑنے سے بھی سوا ہے یہ غم کہ شام فراق

    کوئی ستارہ ان آنکھوں میں جھلملایا نہیں

    بس اپنا نام وہ کاغذ پہ لکھ کے چھوڑ گیا

    میں سو رہا تھا تو اس نے مجھے جگایا نہیں

    میں اپنے عہد کی تکمیل تجھ سے کیا کرتا

    کہ میں نے خود سے بھی وعدہ کوئی نبھایا نہیں

    فراستؔ ایک تو کم ہمتی مجھی میں تھی

    پھر اس نظر نے بھی کچھ حوصلہ بڑھایا نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Kitab-e-Rafta (Pg. 219)
    • Author : Firasat Rizvi
    • مطبع : Academy Bazyaft, Karachi Pakistan Lahore (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے