وہ دن کتنا اچھا تھا

محمد علوی

وہ دن کتنا اچھا تھا

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    وہ دن کتنا اچھا تھا

    میں جی بھر کے رویا تھا

    ہوا ٹھمک کے چلتی تھی

    ہاتھوں میں گلدستہ تھا

    ہوک سی اٹھتی تھی دل میں

    اونچا نیچا رستہ تھا

    یہی پیڑ تھے پہلے بھی

    یہیں کہیں اک چشمہ تھا

    چشمے کا سویا پانی

    مجھے دیکھ کے چونکا تھا

    پانی چھوڑ کے اک گیدڑ

    اک جھاڑی میں لپکا تھا

    دو مینڈک ٹرائے تھے

    ایک پرندہ چیخا تھا

    اک کچھوا اک پتھر پر

    پتھر بن کے بیٹھا تھا

    میں پانی میں اترا تو

    پانی زور سے اچھلا تھا

    پہلے بھی اس جنگل سے

    ایک بار میں گزرا تھا

    لیکن پہلی بار علویؔ

    یاد نہیں کیا سوچا تھا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے