وہ ایک چہرہ جو اس سے گریز کر جاتا

صادق

وہ ایک چہرہ جو اس سے گریز کر جاتا

صادق

MORE BYصادق

    وہ ایک چہرہ جو اس سے گریز کر جاتا

    تو آئینہ اسی دم ٹوٹ کر بکھر جاتا

    نہ جانے کیسے بنی وہ زبان پتھر کی

    وگرنہ ہم پہ قیامت سا کچھ گزر جاتا

    اٹھا ہی لایا سبھی راستے وہ کاندھوں پر

    یقین اس پہ نہ کرتا تو میں کدھر جاتا

    دھنک کے رنگ اسی نے کھرچ لیے تھے مگر

    جو ہم نہ دیکھتے اس بار بھی مگر جاتا

    سفر کا انت لگا موت کی طرح ورنہ

    پکارتی تھیں مجھے منزلیں ٹھہر جاتا

    مأخذ :
    • کتاب : kushaad (Pg. 41)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY