وہ غم دے رہے ہیں خوشی ہو رہی ہے

کیف مرادآبادی

وہ غم دے رہے ہیں خوشی ہو رہی ہے

کیف مرادآبادی

MORE BYکیف مرادآبادی

    وہ غم دے رہے ہیں خوشی ہو رہی ہے

    حقیقت میں اب عاشقی ہو رہی ہے

    ابھی محتسب میکدے میں نہ آئیں

    ٹھہر جائیے مے کشی ہو رہی ہے

    محبت میں کتنے ہی منصور گم ہیں

    خودی بھی یہاں بے خودی ہو رہی ہے

    نہ ذوق طلب ہے نہ احساس منزل

    یہ جینا ہے یا خودکشی ہو رہی ہے

    کوئی جرأتیں دیکھے اہل ہوس کی

    محبت سے بھی دل لگی ہو رہی ہے

    یہ مے خانہ میں کس کا پیمانہ چھلکا

    بہت دور تک روشنی ہو رہی ہے

    نہ پوچھو یگانوں کی بے گانگی کو

    یہ سب دوست میں دوستی ہو رہی ہے

    عجب عالم کیفؔ ہے بزم جاناں

    نگاہوں سے بھی بندگی ہو رہی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY