وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں

شیر سنگھ ناز دہلوی

وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں

شیر سنگھ ناز دہلوی

MORE BYشیر سنگھ ناز دہلوی

    وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں

    بڑے مغرور ہوتے جا رہے ہیں

    بسے ہیں جب سے وہ میری نظر میں

    سراپا نور ہوتے جا رہے ہیں

    جو پھوٹے آبلے دل کی خلش سے

    وہ اب ناسور ہوتے جا رہے ہیں

    بہت مشکل ہے منزل تک رسائی

    وہ کوسوں دور ہوتے جا رہے ہیں

    کہاں پہلی سی راہ و رسم الفت

    نئے دستور ہوتے جا رہے ہیں

    ہمارے داغ دل راہ طلب میں

    چراغ طور ہوتے جا رہے ہیں

    خدا حافظ ہے اب بادہ کشوں کا

    نشے میں چور ہوتے جا رہے ہیں

    پلا دے ساقیا بادہ کشوں کو

    نشے کافور ہوتے جا رہے ہیں

    قریب دل وہ کیا اے نازؔ آئے

    نظر سے دور ہوتے جا رہے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY