وہ ہیں تیار عمارت کو گرانے والے

نبیل احمد نبیل

وہ ہیں تیار عمارت کو گرانے والے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    وہ ہیں تیار عمارت کو گرانے والے

    تو کہاں ہے مری بنیاد اٹھانے والے

    سوچتا ہوں سر ساحل کھڑا جانے کب سے

    ڈوب جاتے ہیں کہاں پار لگانے والے

    ان سے کہہ دو نہ کریں دست ہوس ہم پہ دراز

    ہم تو پینے سے زیادہ ہیں پلانے والے

    غم کی تعبیر سے پہلے مجھے معلوم نہ تھا

    میرے اشعار کو سنگیت بنانے والے

    بادباں تیز ہواؤں سے پھٹے جاتے ہیں

    ڈوب جائیں نہ کہیں پار لگانے والے

    رات ہوتی ہے تو جلتے ہیں مری آنکھوں میں

    یہ ستارے جو ہیں سورج کے گھرانے والے

    کچھ تو ہے جس سے ہے باقی تری دنیا کا جواز

    کم ہی دیکھے ہیں تعلق کو نبھانے والے

    یوں ہی معیار بدلتے رہے دنیا کے اگر

    پھر کہاں آئیں گے ملنے وہی آنے والے

    بانٹتے پھرتے ہیں ہر سمت اندھیروں کو نبیلؔ

    سلسلہ اپنے چراغوں کا بڑھانے والے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY