وہ جس کی جستجوئے دید میں پتھرا گئیں آنکھیں (ردیف .. ا)

واصف دہلوی

وہ جس کی جستجوئے دید میں پتھرا گئیں آنکھیں (ردیف .. ا)

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    وہ جس کی جستجوئے دید میں پتھرا گئیں آنکھیں

    نظر کے سامنے اک دن سر محفل بھی آئے گا

    یہ کیا شکوہ کہ کوئی چاہنے والا نہیں ملتا

    کرم پر تم جو ہو مائل کوئی سائل بھی آئے گا

    یہ طوفاں خیز موجیں یہ تھپیڑے باد و باراں کے

    سفینے کو یوں ہی کہتے رہو ساحل بھی آئے گا

    نہ ہو مایوس ہمدم پاؤں میں لغزش نہ آ جائے

    نظر کچھ دور چل کر جادۂ منزل بھی آئے گا

    محبت اپنے دیوانوں کو ویراں رکھ نہیں سکتی

    کسی کی جستجو میں ایک دن محمل بھی آئے گا

    یہ محفل آج نا اہلوں سے جو معمور ہے واصفؔ

    اسی محفل میں کوئی جوہر قابل بھی آئے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY