وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا

آزاد گلاٹی

وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا

    میرے اندر بسنے والا سایا تھا

    وہ دکھ بھی کیوں ہم کو تنہا چھوڑ گئے

    کیا کیا چھوڑ کے ہم نے جنہیں اپنایا تھا

    خود تم نے دروازے بند رکھے ورنہ

    میں اک تازہ ہوا کا جھونکا لایا تھا

    میری اک آواز سے ساری ٹوٹ گئی

    وہ دیواریں جن پر تو اترایا تھا

    ویراں دل میں غم کے پریت بھٹکتے تھے

    میری چپ پر کسی صدا کا سایا تھا

    اس میں ایک جنم بھر کے دکھ سمٹے تھے

    وہ آنسو جو پلکوں پر لہرایا تھا

    مآخذ
    • کتاب : Dasht-e-Sada (Pg. 48)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY