وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے

تیمور حسن

وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے

تیمور حسن

MORE BYتیمور حسن

    وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے

    خواب دریا کے کناروں کو ملا دیتا ہے

    زندگی بھر کی ریاضت مری بیکار گئی

    اک خیال آیا تھا بدلے میں وہ کیا دیتا ہے

    اب مجھے لگتا ہے دشمن مرا اپنا چہرہ

    مجھ سے پہلے یہ مرا حال بتا دیتا ہے

    چند جملے وہ ادا کرتا ہے ایسے ڈھب سے

    میرے افکار کی بنیاد ہلا دیتا ہے

    یہ بھی اعجاز محبت ہے کہ رونے والا

    روتے روتے تجھے ہنسنے کی دعا دیتا ہے

    زندگی جنگ ہے اعصاب کی اور یہ بھی سنو

    عشق اعصاب کو مضبوط بنا دیتا ہے

    بیٹھے بیٹھے اسے کیا ہوتا ہے جانے تیمورؔ

    جلتا سگرٹ وہ ہتھیلی پہ بجھا دیتا ہے

    یہ جہاں اس لیے اچھا نہیں لگتا تیمورؔ

    جب بھی دیتا ہے مجھے تیرا گلا دیتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY