وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا

قیصر شمیم

وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا

قیصر شمیم

MORE BYقیصر شمیم

    وہ جو سب کا بہت چہیتا تھا

    قبر کی ساعتوں میں تنہا تھا

    جس نے دنیا کو خوب دیکھا تھا

    اس کی آنکھوں میں قہقہہ سا تھا

    رنج کیا خواب کے بکھرنے کا

    کچھ نہ تھا ریت کا گھروندا تھا

    اس کے آنگن میں روشنی تھی مگر

    گھر کے اندر بڑا اندھیرا تھا

    وہ بھی پتھرا کے رہ گیا آخر

    اس کی آنکھوں میں جو سویرا تھا

    ایک پنجرا اداس تنہائی

    اس نے کیا کیا خدا سے مانگا تھا

    شاخ جھلسی ہوئی تھی اور اس پر

    ایک سہما ہوا پرندہ تھا

    قہقہوں کی برات نکلی تھی

    درد کی چیخ کون سنتا تھا

    پل نہ تھا اور سامنے اس کے

    ایک طوفاں بدوش دریا تھا

    ایک خوشبو کا بانٹنے والا

    گندی بستی کا رہنے والا تھا

    دکھ میں آخر یہ کھل گیا قیصرؔ

    نام اک مصلحت کا رشتہ تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Tridhara (Pg. 50)
    • Author : Dr. Hari Kunwar Rai 'Kunwar'
    • مطبع : Dishantar Parkashan (1996)
    • اشاعت : 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY