وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

اختر شیرانی

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

    محبت کریں خوش رہیں مسکرا دیں

    غرور اور ہمارا غرور محبت

    مہ و مہر کو ان کے در پر جھکا دیں

    جوانی ہو گر جاودانی تو یا رب

    تری سادہ دنیا کو جنت بنا دیں

    شب وصل کی بے خودی چھا رہی ہے

    کہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں

    بہاریں سمٹ آئیں کھل جائیں کلیاں

    جو ہم تم چمن میں کبھی مسکرا دیں

    عبادت ہے اک بے خودی سے عبارت

    حرم کو مے مشک بو سے بسا دیں

    وہ آئیں گے آج اے بہار محبت

    ستاروں کے بستر پہ کلیاں بچھا دیں

    بناتا ہے منہ تلخی مے سے زاہد

    تجھے باغ رضواں سے کوثر منگا دیں

    جنہیں عمر بھر یاد آنا سکھایا

    وہ دل سے تری یاد کیونکر بھلا دیں

    تم افسانۂ قیس کیا پوچھتے ہو

    ادھر آؤ ہم تم کو لیلیٰ بنا دیں

    یہ بے دردیاں کب تک اے درد غربت

    بتوں کو پھر ارض حرم میں بسا دیں

    وہ سرمستیاں بخش اے رشک شیریں

    کہ خسرو کو خواب عدم سے جگا دیں

    ترے وصل کی بے خودی کہہ رہی ہے

    خدائی تو کیا ہم خدا کو بھلا دیں

    انہیں اپنی صورت پہ یوں ناز کب تھا

    مرے عشق رسوا کو اخترؔ دعا دیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    طاہرہ سید

    طاہرہ سید

    ملکہ پکھراج

    ملکہ پکھراج

    RECITATIONS

    معین شاداب

    معین شاداب

    معین شاداب

    وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں معین شاداب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY